History of Khaplu Baltistan The Centuries-Old Kingdom in the High Mountains
خپلو بلتستان جو ایک تاریخی علاقہ ہے یہاں کی تاریخ پر بہت ساری کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ ان لکھاریوں میں پاکستانی اور غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
یہاں کی تاریخ کی اہمیت کا پہلے لوگوں کو اندازہ نہیں تھا لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہو رہا ہے اور یہاں کی تاریخ پر کتابیں لکھنا شروع کیا ہے اور یونیورسٹی سٹوڈنٹس یہاں کی تاریخ پر تھیسس بی کرنے لگا ہے جس سے یہاں کی ختم ہوتی تاریخ کو دوبارہ اجاگر کرنے میں بہت مدد مل رہی ہے۔
نہیں تو ایک وقت تھا کہ جب کوئی یہاں کی تاریخ کے بارے میں پڑھنا چانتے اور انٹرنیٹ پر سرچکرنے پر بہت ہی کم مواد میسر تھا لیکن اب کافی مواد میسر ہے جس سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس فیلڈ میں کام ہو رہا ہے۔
کہتے ہیں کہ خپلو لے لوگ یارقند سے آئے تھے اس زمانے میں جو سنڑرل ایشیا کے رہنے والے تھے۔ یہ لوگ یارقند کے راستے سلترو سے ہوتے ہوئے اس علاقے تک پہنچے ہیں۔ کچھلوگوں کا ماننا ہے کہ یہ لوگ ہنزہ لداخ اور کشمیر سے آئے ہیں۔
ہنزہ سے آئے لوگوں نے خپلو تھلے میں رہنا شروع کیا اور انھوں نے یہاں پہ تین محل قلعے بنائے اس زمانے میں ۔
اور جو لوگ یارقند کے راستے آئے انھوں نے اپنا ڈھیرا تھغس سلترو اور ہوشے میں بنایا تھا جہاں پر انھوں نے چار الگ اکگ قلعے بھی تعمیر کرائے تھے
Advent of Islam in Khaplu Baltistan
اسلام کی آمد سے پہلے اس علاقے میں بدھ مت کا زور تھا اور سارے لوگ بدھ مت مزھب کے ماننے والے تھے۔ لیکن اسلام کے آمد کے بعد یہاں کا لوگوں نے اسلام قبول کیا جو آج تک چلا آ رہا ہے۔
5-6 ہجری میں یہاں پہ بدھ مت کی تاریخ کے ثبوت ملتے ہیں ۔
یہ علاقہ آرکیالوجسٹ کا ہمیشہ سے پسندیدہ علاقہ رہا ہے کیونکہ انھیں یہاں مختلف ادوار کے اثرات اور مختلف زبانوں کے اثرات ملے ہیں۔
بہت سارے پاکستانی اور غیر ملکی آرکیالوجسٹ نے یہاںکی آرکیالوجی پہ کتابیں بھی لکھی ہیں۔ یہاں کی تاریخ زبانیں نقوش جو ملے ان سے آرکیالوجسٹ کو بہت ساری چیذوں میں بہت مدد بھی ملے ہیں۔
Historical Books Written on Baltistan
اگر آپ یہاں کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ کتانیں ہیں جس کا آپ کو ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ وہ کتابیں مندرجہ زیل ہیں۔
- Tareekh E Hindustan
- Raaj Tarangni
- Tareek E Baltistan
- Tareek E Farishta
- Tareekh E Jammu